|
آزادی پاکستان سے آزادی صحافت تک انعام الحق |
|
اپناپیرمحل ڈاٹ کام پیرمحل ڈاٹ پی کے پیرمحل ڈاٹ کام ڈاٹ پی
کے 9جولائی کو پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی میڈیا مخالف قرارداددراصل پاکستان کے حکمران طبقوں کی میڈیا کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کا اظہار ہے۔یہ بات تواب ظاہر ہوچکی ہے کہ یہ تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھااوریہ قراردادایک لمبے منصوبے کی کڑی ہے جومیڈیاکونکیل ڈالنے کے لئے بنایاگیامگر قراردادکے ماسٹر مائےنڈ ےہ بھول گئے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اُس گڑھے مےں گِرتا ہے۔اس قرارداد کا ساراالزام صرف ثنا اللہ مستی خیل پر تھوپ کر دراصل اُسے قربانی کا بکرابنایا جارہا ہے۔مگر اعلیٰ حکام اور تمام سےاسی جماعتوں کی لبےک پر ثنا اللہ مستی خےل نے وہ ورق پڑھ کر سُناےا نہ کہ اپنی ذاتی مرضی سے۔ تین شعبوں کو کسی بھی ریاست کا بنیادی ستون کہا جاتا ہے اور وہ ہےں مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ،لیکن اب ماہرین، میڈیاکو ریاست کے چوتھے ستون کے طور پرتسلیم کرتے ہےں۔کسی بھی ملک میں آزادمیڈیا حکمرانوں کے لئے دردِ سر بنا رہتاہے۔کےونکہ آزاد مےڈےا کا کام سچ اور جھوٹ مےں فرق کرکے عوام کوحقےقت دےکھانا ہوتا ہے۔لیکن پاکستان جہاں جمہوری قدریں ابھی بہت کمزور ہےں وہاں تو ایک طاقتور اورآزادمیڈیا حکمران طبقے کے لئے دوہری مصیبت کا حامل ہے۔ہمارے حکمرانوں کا تعلق پاکستان کی اشرافیہ سے ہے اوران میں سے بہت سے جاگیردارانہ اور دیہاتی پس منظررکھتے ہیں۔جہاں ان کے سامنے کمزور لوگ سراٹھاکر بھی نہیں چل سکتے۔ان لوگوں کے لئے یہ بات سوہان روح بن جاتی ہے جب ان کے خیال میںمعمولی حیثیت والے صحافی اوررپورٹرزان کو آئینہ دکھانا شروع کردےں۔یہ بات ان کی بڑھی ہوئی اناکو سخت ٹھیس پہنچاتی ہے۔اس کا اظہار وہ اپنی نجی محفلوں میں ایک دوسرے سے کرتے رہتے ہیں،مگرمسئلہ یہ ہے کہ طاقت کے مراکزاب تبدیل ہورہے ہیں۔پچھلے کچھ سالوں سے سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ اب عدلیہ اور میڈیا بھی اقتدار میں اسٹیک ہولڈزبن رہے ہیں۔اگر پاکستان کی تاریخ کودیکھیں توپرانے حکمرانوں کی صحافت کے خلاف کی گئی کاروائیوں کے سامنے پنجاب اسمبلی کی یہ قرارداد معمولی نظر آئے گی۔ قیام پاکستان سے ہی میڈیا حکمرانوں کے زیرعتاب رہاہے۔اُس دورمیںبھی بڑے صحافی موجود تھے جو حکمرانوں کے سامنے کلمہ کہنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے ۔وہ جب تک زندہ رہے ان کو اور ان کے اخبار کوسخت ریاستی دبا ¶ کا سامنا کرنا پڑا۔ایوب خان کے آمرنہ دور میں حقیقی اندازمیں پاکستانی میڈیا کو نشانہ بنایا گیا۔1963ءمیں پریس اینڈپبلیکشنزآرڈینس جاری کیا گیا۔اس آرڈینس کے بعد پریس پرحکومت کا مکمل کنٹرول ہوگیا۔اس کی وجہ سے صحافیوں کی حیثیت محض سٹینوگرافروں جےسی رہ گئی۔تمام خبروں کو سنسر کیا جاتا تھااور اپنی مرضی کی خبریں لگوانے کی کوشش ہوتی تھی۔الطاف گوہر اُس زمانے میں وزیراطلاعت تھے، ان کا پریس پرخاصہ رعب تھا۔جب فاطمہ جناح ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن میں کھڑی ہوئیںتو پریس کے ایک حصے نے ان کا ساتھ دیا۔جس کی وجہ ایوب خان میڈیا کے مزیدخلاف ہوگئے۔APNSکے پلیٹ فارم سے صحافیوں نے ان کالے پریس قوانین کے خلاف ایک لمبی جدوجہد کی۔اس دور میں اخبارات سخت دبا ¶ میں تھے۔اپنے واضع کردہ قوانین کی خلاف ورزی پر مارشل لاانتظامیہ اخبارنویسوں کو کڑی سزادیتی تھی۔آزاد صحافت کے دشمنوں کی وجہ سے کئی نامور صحافیوں کو جیلوں کی ہوا کھانی پڑی۔ذوالفقارعلی بھٹوکا دور آنے کے بعد پاکستانی صحافت دوحصوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ایک حصہ دائیں بازوکی سوچ کی نمائندگی کرتاتھا جبکہ دوسرا بائیں بازوکی اوربائیں بازوسے تعلق رکھنے والا پریس بھٹو کی حمایت کررہا تھا۔ذوالفقارعلی بھٹو بے شک جمہوری طور پر منتخب ہوئے ، لیکن ان کے اندر بھی آمرانہ روح موجود تھی۔پاکستانی پریس کا ایک حصہ بھٹو اور ان کی پالیسیوں کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتا تھا۔اس کے جواب میں بھٹوحکومت نے بھی پریس کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کرنا شروع کردیا۔کئی اخباروں کی لائسنس ضبط ہوئے،صحافیوں کو دھمکایا گیا بعض کو جیل میں بھی بھیجا۔اس کے بعد 1977میں پی این اے کی تحریک چلی اور ملک پر ایک اور آمرمسلط ہوا جس کا نام جنرل ضیاءالحق تھا۔جنرل ضیاءکے دورکو پاکستان کے لئے بالعموم اور پریس کے لئے بالخصوص تاریک ترین دور کہا جاسکتا ہے۔یہی دور تھا جب پریس کوبدترین ریاستی جبرکاسامناکرناپڑا۔ایک طرح سے اس پر زنجیریںکس دی گئیں۔13مئی 1978ءکوچار صحافیوںمسعوداللہ خان،اقبال جعفری،خاورنعیم ہاشمی اورنثارزیدی کو فوجی عدالت کے حکم پر کوڑوں کی سزا دی گئی اور کئی صحافیوںکوقیدکی سزادی گئی۔اُس وقت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدرنثارعثمانی کی قیادت میں صحافیوں نے آزادی صحافت کی تحریک جاری رکھی۔14اگست1978ءکو ایک خاتون صحافی لالہ رخ حسن کو ان کے شیرخوار بچے سمیت گرفتارکرلیا گیا۔اس کے باوجود نثارعثمانی کو نہ جھکایاجاسکا۔کئی صحافیوں کو شاہی قلعہ میں رکھا گیا کچھ ملک چھوڑگئے۔ضیاءالحق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سویرے اٹھ کر سب سے پہلے تمام اخباروں کا مطالعہ کرتے تھے۔دائیں بازوسے تعلق رکھنے والا پریس ان کا حمایتی تھا۔انہوںنے نہایت چالاکی سے بعض مشہور اخبارنویسوں سے ذاتی تعلقات بنالئے۔1988ءمیں صحافیوں کی لمبی جدوجہد رنگ لے آئی جب بے نظیربھٹوکے دور میں پریس اینڈپبلیکشن آرڈینس واپس لے لیاگیا۔1988ءسے 1999ءتک آنے والی پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کی حکومتیں دونوں پریس سے خفا نظر آتی رہیں۔اُسی دور میں پاکستان کا سب سے بڑا میڈیاگروپ حکومت کے سخت عتاب کے نیچے آگیا۔اُس کے اشتہارات روک لئے گئے اور اسکے نیوزپیپرمنگوانے پرپابندیاںلگادی گئیں۔اس وجہ سے اس گروپ کے اخبارات بندش کے قریب پہنچ گئے۔1999ءمیں پرویزمشرف کی حکومت آنے کے بعدپاکستان کا میڈیا ایک اہم اور انقلابی تبدیلی سے گزرا۔2001ءتک الیکٹرانک میڈیا میں صرف پی ٹی وی ہی تھا لیکن 2002ءسے پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کاآغازہوا۔اب تک بے شمار نیوزاور انٹرٹینمنٹ چینل شروع ہوچکے ہیں۔کچھ نیوزچینل پہلے سے موجود بڑے پرنٹ میڈیاکی ملکیت ہیں۔ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی نئی طاقت کے ساتھ ظہور پذیرہوا۔الیکٹرانک میڈیا کی عام آدمی تک رسائی اور اثرانگیزی بہت زیادہ ہے۔اس نے پاکستان میں تیزی سے اپنا اثرپھیلانا شروع کردیاہے جس میں روزبروزاضافہ ہورہا ہے۔کئی ٹی وی اینکرزاور پروگرام بہت شہرت رکھتے ہیں۔کئی گمنام شخصیات ٹی وی پرآنے کے بعد بین الاقوامی شہرت اختیارکرچکے ہیں،جن کے پروگراموں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔اس میڈیا بوم کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو روزگارملا ہے جو اس میڈیا کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔2007ءتک پرویزمشرف کواپنی حکومت کی طاقت پر بہت اعتمادتھا۔اسی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا کو کافی آزادی حاصل تھی۔لیکن9مارچ کے بعد حالات نے اچانک پلٹاکھایا۔وہی میڈیا جوپرویزمشرف کے دورحکومت میں پلا بڑھا تھا اب وہی ان کے لئے ایک مصیبت بن کر رہ گیا۔جسٹس افتخارچوہدری کے جلوسوں کی الیکٹرانک میڈیا نے براہ راست کوریج شروع کردی جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ ان کے جلوسوں میں شامل ہونا شروع ہوگئے۔ان جلوسوں نے مشرف کی ناک میں دم کردیا۔ان کے صبر کا پیمانہ لبریزہونا شروع ہوگیا۔پیمراہ آرڈینس میں فوراً تبدیلیاں کی گئیں۔جن سے چینلز کو بندکرنے کا اختیارحکومت کو حاصل ہوگیا۔اس کے علاوہ ملٹی نیشنل اداروں پردبا ¶ڈالاگیا کہ وہ ٹی وی چینلوں کو اشتہاردینا بندکردیں۔سب سے کارگرہتھکنڈہ جو استعمال ہوا وہ یہ تھا کہ کیبل آپریٹروں پر دبا ¶ڈال کر ملک میں ان ٹی وی چینلز کی نشریات بند کردی گئیں۔کئی چینل اپنے پروگرام دبئی سے نشر کرتے ہیں۔اس وجہ سے متحدہ عرب امارت کی حکومت پر دبا ¶ڈال کر ان کی نشریات بندکروادی گئیں۔اس وجہ سے یہ چینل معاشی تباہی کے دہانے تک پہنچ گئے۔لیکن یہ سارے ہتھکنڈے بھی مشرف حکومت کو نہ بچا سکے۔اب پھر میڈیا ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔لیکن ان کو سمجھنا ہوگاکہ میڈیااپنی طاقت کے اُس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ اب روایتی اور پرانے ہتھکنڈے ان کے کام نہیں آسکیں گے۔ہم دراصل تیزی سے تبدیل ہوتی اور ارتقا پذیردنیا کا حصہ ہیں۔ماہرین اس دور کو میڈیااور کمےونےکےشن کا دور کہتے ہیں۔لیکن یہ ضروری ہے کہ میڈیا بھی اپنی اہمیت اور اثرپذیری کا اندازہ کرتے ہوئے ایک متوازن اور غیرجانبدارانہ طرزعمل اپنائے۔ |
| © www.apnapirmahal.com 2005-10 |
|
Site designed and maintained by Mian AsadHafeez (lathianwalay) |
|
Best Viewed at 1024 X 768 Resolutions |