کوسوو :۔ ”آزادی کے پنجرے میں قید“ ایا ز محمود

اپناپیرمحل ڈاٹ کام پیرمحل ڈاٹ پی کے پیرمحل ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے
عالمی عدالت نے کوسوو کے عوام کو آزادی کے پنجرے میں قید کرنے کی حمایت کا فیصلہ کرکے کوسوو کے عوام کے پیٹ میں چھری گھونپی ہے۔ جو کہ بہت زیادہ افسوناک اور تکلیف دہ ہے۔ یہ فیصلہ ملکوں کو توڑنے اور ان کو کمزور کرنے کی امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اور اس فیصلہ سے ان دونوں ملکوں کی پالیسی اور منشاءکا احترام کیا گیا ہے۔ اب کوسوو کے مسلم عوام باضابطہ آزادی کے پنجر ے میں قید کردئے گئے۔ اب یہاں کے عوام اس ملک کے حصہ میں آزادی سے گھوم پھر نہیں سکیں گے۔ بلکہ آزادی کے پنجرے کوسوو میں قید ہوکر رہ جائیں گے۔ اور یہ آزادی کا پنجرہ اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر لٹکا دیا جائے گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ وزیر خارجہ مسز ہلیری کلنٹن نے کوسوو کی آزادی کو تسلیم کرنے کی دنیا کو ہدایت دیکر غریب ملکوں کے منہ پر زور دار تماچہ رسید کیا ہے۔ کہ وہ مسلمانوں کو آزادی کے پنجرے میں قید کرکے امریکہ و برطانیہ کی مجوزہ پالیسی کی وکالت کرکے دنیا کو گمراہ کررہی ہیں۔ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی حکمت عملی پر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی وہ اور ان کا ملک گامزن رہنا چاہتا ہے۔
عالمی عدالت کے تازہ فیصلہ نے انصاف کے تمام تقاضو ں کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کہ وہ دنیا کے عوام کو انصاف فراہم نہیں کرتی ہے ۔بلکہ انصاف کو امریکہ وبرطانیہ کے دباﺅ میں کچلتی ہے۔ کوسوو کو آزادی کے پنجرے میں قید کرنے کا مجرمانہ فیصلہ ملکوں کو توڑنے کی دلیل کو اجاگر کرتا ہے۔ کہ عوام کو آزادی کے جھانسہ میں پھانس کر ان کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ اور ان کو اس میں مقید کرکے ان کیلئے ایک آزادی کا پنجرہ بنا کر دنیا میں کمزور ملکو ں کو توڑ کر ان میں سے نئے ملکوں کو جنم دے کر ان کو اقوام متحدہ کی چو کھٹ پر لٹکایا جاتا ہے۔ یہ انسانیت کے ساتھ ایک بھونڈ ا مذاق ہے۔ یہ پنجرے نما آزادی جو کہ ایک قید کی مانند ہے۔یہ کوسوو کے عوام پر امریکہ و برطانیہ کی طرف سے ان کو گمراہ کرکے زبردستی تھوپی گئی ہے۔پنجرے نما آزادی کیلئے ان پر جو مظالم ڈھائے گئے ہیں اس کو دنیا کے عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔کوسوو میں آباد مسلمان جو پہلے سربیائی ملک کے کونے کونے میں جا سکتے تھے۔ آزادی سے گھوم سکتے تھے۔ اور روزگار کرسکتے تھے۔ اب ان کو آزادی کے پنجرے میں قید کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ جس سے ان کی آزادی کو چھین لیا گیا ہے۔ اس طرح کی آزادی کو چند مفاد پرست ، موقعہ پرست لوگ احترام کرتے ہیں۔ مگر انصاف پسند،امن پسند اور اسلام پسند لوگ ایسی پنجرے نما آزادی کو اپنے پاﺅں تلے روندتے ہیں۔ یہ آزادی نہیں۔بلکہ انسانیت پر ایک کلنک ہے۔ اور ان پر ایک بدنما داغ ہے۔ کہ آزادی کے پنجرے بناکر اس کو اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر لٹکانے کے کام میں عالمی عدالت بھی مدد کرتی ہے۔؟آزادی ایسا گمراہیت بھر انعرہ ہے۔ اگر اس کو امریکہ وبرطایہ کے تمام صوبوں میں اس کو رائج کیا جائے اور اس کی گونج پید ا کی جائے۔ تو ان دونوں ممالک میں جتنے صوبے ہیں۔ وہ ملکوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔وہاں ایسی تحریکیں نہیں چلائی جاتی ۔ اس لئے کہ امریکہ و برطانیہ دوسروں کو ہی کمزور کرتے ہیں۔خود کو محفوظ اور سپر پاور رکھنے کیلئے اسی حرکتیں کرتے ہیں۔تاکہ وہ ان کے مدمقابل نہ کھڑی ہوسکیں۔ اور ان سے مقابلہ آرائی کبھی ہمت نہ کرسکیں۔
کوسوو کو آزادی کے پنجرے میں قید کراکر اوراس پر عالم عدالت کا فیصلہ لادکر ۔ اس فیصلہ کا خیرمقدم کرنے والے انسانیت کے عظیم دشمن ہیں۔ایسے لوگ مذہب اسلام کو دھشت گرد مذہب میں تبدیل کرانے کیلئے القاعدہ و تالبان اور لشکر طیبہ کا تخلیقی ڈھانچہ بنا کر اس کو اپنے خلاف صف آراءرکھ کر دوسرے ملکوں میں قابض ہونے کیلئے مداخلت کرکے کمزور ملکوں کا امن تباہ کرتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔ کہ یہ کام بڑے ملکوں کی نگرانی میں ہوتا ہے۔یہا ں یہ تذکرہ کرنا ضروری ہے۔ کہ امریکہ کے صدر مسٹر بارک اوبامہ اور مسز ہلیری کلنٹن کی قیادت میں نیا پروڈکٹ تیار کیا گیا ہے۔ جس کا نام ” الشباب “ ہے؟۔ جس کی پبلسٹی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اور اب اس کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ اس کی آڑ لیکر افریقی ممالک اور یمن میں مداخلت کیلئے داخلہ کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔اس کو القاعدہ و طالبان جیسا خطرناک بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ القاعدہ و طالبان تو امریکن ری پبلیکن پارٹی کا پروڈکٹ ہے؟ جبکہ ” الشباب “ کو امریکی پالسی کے تحت امریکن دیموکریٹ پارٹی کا پروڈکٹ بناکر پیش کیا گیا ہے؟۔القاعدہ وطالبان تو ری پبلیکن کے ساتھ مقابلہ آرائی کرتے ہیں۔ جبکہ ” الشباب ‘ ‘ ڈیموکریٹ کے ساتھ دھمکیوں کی مقابلہ آرائی کرے گا۔امریکہ میں آئندہ کے صدارتی انتخاب کے موقعہ پر ڈیموکریٹ بھی ری پبلیکن کی طرح اپنی کامیابی کیلئے الشباب کی تخلیقی تنظیم کی تخلیقی دھمکیوں کا سہارا لیکر ان کے ذریعہ امریکی عوام کے جذبات کو گرما کر امریکی اقتدار پر قابض رہنے کا اپنا مشن ابھی سے تیار کر رہے ہیں۔
بہرحال کوسوو کو آزادی کے پنجرے میں مسٹر بارک اوبامہ کی موجودگی میں قید کیا گیا ہے۔ اس لئے امریکہ میں آباد مسلمان اس کی سزا ڈیموکریٹ کو دیں گے۔ کہ دنیا کامسلمان وسیع آزادی کا علمبردار ہے۔ پنجرے نما آزادی کو وہ پایہ حقارت سے ٹھکراتا ہے۔ اب ڈیموکریٹ کوشیش کررہے ہیں۔کہ آزادی کے پنجرے میں ہندوستان کے دو صوبوں کشمیر اور پنجاب کو قید کرکے ہندوستان کے مجموعی عوام کو کمزور کیا جائے۔ اس لئے مفاد پرست، موقعہ پرست ، کرایہ کے ٹٹیوںاور اسلامی حلیہ میں اسلام دشمن لوگوں کے ذریعہ ’آزاد کشمیر اور خالصتان کے حوالہ سے نعرے لگا کر کشمیری عوام اور سکھ عوام کی آزادی، آزادی کے عنوان سے ہی سلب کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے۔یعنی آزادی کے نام پر گمراہیت پھیلانے کا عمل بڑی چالاکی اور مستعدی سے پھیلایا جارہا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوجوں کے جماﺅ نے اس راز کو اُگل دیا ہے۔ کہ یہاں کے عوام کو آزادی کے پنجرے میں قید کرنے کی تازہ کوشیش کے تحت یہ سرگرمیاں ہیں۔جس سے مسٹر ہلیری کلنٹن نے پاک اور افغان کی سرحد کے درمیاں اوسامہ اور ملاعمر کے ہونے کی دلیل پیش کی ہے۔ کہ ان کو پکڑنے کے نام پر اس خطہ کو کمزور کیا جائے۔ اس خطہ کو کمزور کرنے کیلئے بلوچستان، آزاد کشمیر، خالصتان، تائیوان اور تبت وغیرہ کو آزادی کا لباس پہنا کر وہاں کے عوام کو آزادی کے پنجرے میں قید کرنے کے پلان امریکہ کے تعاون اور اس کی حمایت سے دیگر ملکوں کو ساتھ میں لیکر کئے جارہے ہیں۔ جن میں یہاں کے لوگوں کو بڑی مہارت سے ان پنجروں میں قید کرکے ان کو اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر لٹکا نے کا کام چل رہا ہے۔ اگر ان کی کوشیش کامیاب ہوئی تو پھر یہ معاملہ عالمی عدالت میں بھی جائے گا۔ جہاں عالمی عدالت ان کی اس کوشیش و فیصلہ پر اپنی مہر ثبت اسی طرح کردے گا۔ جس طرح اس نے کوسووکے عوام کو آزادی کے عنوان سے غلامی کا طوق پہناکر اس کو اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر لٹکانے کا کام انجام دیا ہے۔ اب بے تکی پنجرے نما آزادی کو تسلیم کرانے کیلئے امریکہ کی جانب سے اس کے نائب وزیر خارجہ فلپ کروالے نے اخبارات کے ذریعہ اپیل جاری کرکے سمندر کی مچھلی کو تالاب کی مچھلی بنانے کی کوشیش کرر ہے ہیں۔جبکہ مسلمان و دیگر قومیں تالاب میں نہیں بلکہ سمندر میں ہی رہنا پسند کرتی ہیں۔ اور پنجرے نما آزادی کو مستر د کرتی ہیں
بہرکیف اب اگر کوئی کشمیری عوام کو آزادی کے پنجرے میں قید کرنے کی بات کرتا ہے۔ تو اس شخص کی سوچ کتنی محدود ہے۔ کشمیری عوام کو پورے ہندوستان کی رہنمائی کرنی ہے۔ جس سے ان کو محروم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے۔ حالانکہ ماضی میں مسٹر مفتی سعید نے رہنائی کا کام بخوبی انجام دیا تھا۔ اس لئے اس خطہ کے عوام کو چھوٹے چھوٹے آزادی کے پنجرے میں قیدکرکے اقوام متحدہ کی چوکھٹ پر لٹکانے والوں کو اب بے نقاب کرکے امن کی نئی راہ ہموار کرنی ہے۔ اس خطہ میں آباد ہر شہری کو آزادی کے پنجرے کی قید۔کسی بھی صورت میں منظورنہیں۔ وہ کوسوو کے عوام کو آزادی کے پنجرے میںقید کرنے کے عالمی عدالت کے فیصلہ کو مسلم عوام پر حملہ ہی تسلیم کریں گے۔ کہ یہ فیصلہ ان کا دم گھونٹے کی بدترین کوشیش ہے۔ جس کو تکلیف دہ ہی کیا جاسکتا ہے۔
 © www.apnapirmahal.com 2005-10    

 Site designed and maintained by Mian AsadHafeez (lathianwalay)

Best Viewed at 1024 X 768 Resolutions